
انگریزی محاورہ ہے کہ ”کلچر زبان کے ذریعے آتا ہے“ ۔ زبان کسی بھی معاشرت اور کلچر کی بیک وقت تخلیق کار اور آئینہ دار ہوتی ہے۔ ہم بچوں کو زبان کے ذریعے ہی مختلف تصورات سے روشناس کرواتے ہیں اور اسی زبان کی مدد سے ہم سوچ پاتے ہیں۔ اگر بچپن سے لڑکپن اور جوان عمری تک کسی کو ایک طرح کے پیغامات دیے جائیں تو ان پیغامات کے اثرات اس شخص کی شخصیت پر اور سوچ میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اب ذرا سوچیے کہ لڑکوں کو بچپن اور لڑکپن میں فیملی اور معاشرے کی سطح پر کس طرح کے پیغامات دیے جاتے ہیں۔
اکثر گھروں میں جب لڑکا روتا ہے تو اسے کہتے ہیں کہ مرد بنو، تم مرد ہو کر روتے ہو۔ اگر بچہ خوفزدہ ہو تو طعنہ دیا جاتا ہے کہ کیسے مرد ہو جو ڈر گئے؟ یہ پیغامات سن سن کر لڑکا ایک بات سیکھتا ہے کہ اپنے ڈر اور لطیف جذبات کا اظہار نہیں کرنا۔ یہی لڑکا جب بلوغت کو پہنچتا ہے، لڑکپن میں دوستوں اور محلے داروں سے ملتا ہے تو اسے مخالف جنس کے حوالے سے مختلف پیغامات دیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور ”ہسی تے پھسی“ یعنی اگر کسی لڑکی نے مسکرا کر دیکھا تو مطلب ہے وہ تمہارے ساتھ سیکس کے لئے راضی ہے۔ ”عورت کی ناں میں ہاں ہوتی ہے“ یعنی عورت چاہے ناں کہتی رہے لیکن اس کے دل میں ہاں ہوتی ہے۔ انہیں پیغامات کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد رضا مندی کے تصور کو سمجھ ہی نہیں پاتا۔
یعنی اگر آپ اصلی مرد ہیں تو موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر فائدہ نہیں اٹھا سکے تو اس میں شرافت نہیں نامردی کا دخل ہے۔ اس سوچ کا نتیجہ راولپنڈی کے اس واقعہ میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں محلہ دار نے ایک لڑکے کو پڑوسی لڑکی سے زیادتی کرتے ہوئے پکڑا تو بجائے لڑکی کی مدد کرنے کے اس نے خود بھی لڑکی کے ساتھ زیادتی کی۔ بات صرف یہی نہیں رکی بلکہ جس جس محلہ دار کو پتہ چلتا گیا اس نے بجائے دوسروں کی شکایت کرنے کے خود بھی موقع سے فائدہ اٹھایا۔
ایک اور جملہ سینئر مرد لڑکوں پر اپنا تجربہ آشکار کرتے اور رعب جمانے کے لئے کہتے ہیں کہ سانپ اور ”۔“ جہاں ملے مار دو۔ اس پیغام کا اثر مردوں کے معاشرتی رویوں میں نمایاں نظر آتا ہے جہاں وہ عورت کو محض ایک جنسی کھلونے سے زیادہ نہیں سمجھتے۔ حال ہی میں مینار پاکستان پر ہونے والا واقعہ اس سوچ کا مظہر ہے۔
دوسری طرف اچھے مرد بھی ہیں جو اچھائی کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی جانب سے بسوں، رکشوں، مساجد اور اہم جگہوں پر سٹیکر آویزاں کیے جاتے ہیں جن کی تحریر کچھ یوں ہوتی ہے ”اپنی نظر میں حیا پیدا کرو تا کہ تمہاری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی بری نگاہ سے بچ سکے“ ۔ ایک اور واقعہ بہت شدت سے سنایا جاتا ہے کہ ایک شخص کی تین بیٹیاں تھیں۔ جب باپ بوڑھا ہوا اور غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے جوان بیٹیوں کو پال نہیں سکتا تھا تو ایک دن سب سے بڑی بیٹی نے کہا کہ میں کچھ کما کر لاتی ہوں۔
وہ گئی اور شام کو خالی ہاتھ لوٹی۔ روتے ہوئے بتانے لگی کہ میں بازار میں گئی تھی کہ کوئی مجھے ”خرید“ لے لیکن شام تک کھڑے رہنے کے باوجود کسی ایک مرد نے بھی مجھے نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔ یہ بات سن کر بوڑھا باپ رونے لگا اور اپنی بیٹیوں کو بتانے لگا کہ انہیں کبھی کوئی نہیں دیکھے گا کیوں کہ اس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی لڑکی کی طرف غلط نظر سے نہیں دیکھا۔ یہاں دو نکات قابل توجہ ہیں : اول؛ دوسروں کی بہن بیٹیوں کو صرف اس لئے نہ دیکھو کہ تمہارے گھر کی عورت محفوظ رہے۔
یعنی اگر آپ کے گھر میں عورت نہیں تو پھر جو مرضی کرتے پھرو۔ اسی طرح اگر کسی لڑکی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے تو یہ اس کے باپ یا بھائی کے غلط کاموں کی سزا ہے۔ دوم؛ عورت کمانے کے لئے نکلی ہے تو مزدوری کی بجائے اسے جسم فروشی سے ہی کچھ مل سکتا ہے۔ اسی طرح کے واقعات اور کہاوتوں کے ذریعے لڑکوں کے ذہنوں میں یہ بات پختہ کر دی جاتی ہے کہ گھر سے نکلنے والی عورت اچھی عورت نہیں۔ اب اس سوچ کے ساتھ بڑا ہونے والا لڑکا جب کسی لڑکی کو پبلک جگہ پر دیکھتا ہے تو سب سے پہلے اس کے ذہن میں آتا ہے کہ یہ اچھی لڑکی نہیں۔ اگر یہ اچھی ہوتی اسے گھر پر ہونا چاہیے تھا۔ دوسرا یہ کہ اگر کوئی لڑکی کسی دفتر میں ترقی کر رہی ہے تو اس کی ترقی ذاتی محنت اور مہارت کی بجائے سینئرز سے ”ناجائز“ تعلقات کی وجہ سے ہے۔
یہ سب واقعات اور جملے محض گفتگو تک نہیں رہتے۔ کچے ذہنوں میں ان کے اثرات دیر تک اور دور تلک رہتے ہیں۔ ہم آئے روز اس ذہنیت سے پیدا ہونے والے رویوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ان کا جائز مقام ملے اور وہ خود کو محفوظ تصور کریں تو ہم مردوں کو اپنے بچوں، قرب و جوار اور خاندان کے لڑکوں اور مرد دوستوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ عورت کی عزت کرنے کے لیے اس کا کسی رشتے سے منسلک ہونا ضروری نہیں۔
ہر عورت قابل عزت ہے۔ عورت کی عزت بحیثیت انسان کی جائے نہ کہ صرف کسی رشتے کی وجہ سے۔ عورت کی جگہ صرف چادر چار دیواری نہیں بلکہ وہ بھی مرد کی طرح اپنی مرضی سے جو پیشہ چاہے اپنا سکتی ہے، جہاں چاہے کام کر سکتی ہے۔ اگر کوئی عورت ناں کہتی ہے تو اس کا مطلب صرف ناں ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت کسی ایک مرد کو ہاں کہتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کو ہاں کہہ رہی ہے۔ اگر کوئی عورت مسکرا کر دیکھ لیتی ہے تو یہ ایک فطری انسانی عمل ہے۔ اس کا مطلب آپ سے جنسی خواہش پوری کرنا ہرگز نہیں۔ اگر کسی عورت کے ساتھ زیادتی کا پتہ چلے تو مجرموں کے ساتھ مل کر مردانگی مت دکھاو بلکہ انسانوں کی طرح متاثرہ فرد کی مدد کرنے کی کوشش کرو۔
Reference : عورت کی عزت بحیثیت انسان کی جائے