Researcher and Storyteller on Gender, Stigma, and Communication Turning silence into story, and story into healing.

ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیٹا پروٹیکشن

دسمبر 2019 کے آغاز میں وزیر اعظم پاکستان نے ڈیجیٹل پاکستان نامی پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔ یہ قابل تحسین اقدام تھا لیکن ڈیجیٹل پاکستان بنانے کے عمل میں کہیں پاکستانی شہریوں کی حقوق تلفی میں اضافے کا باعث تو نہیں بنے گا؟ پاکستان کا ڈیجیٹل سفر گزشتہ دو دہائیوں سے شروع ہے جس کے تحت نادرا، پنجاب میں زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل کرنا، کسٹمز کے محکمے میں جدید ڈیجیٹل طریقے کو شامل کرنا سے لے کر پاکستان سٹیزنز پورٹل جیسے کام شامل ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں آئے روز انقلابات واقع ہو رہے ہیں اور آئندہ کسی بھی ملک کی ترقی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں آگے بڑھے بغیر ممکن نہیں۔ لہذا وزیر اعظم کا ڈیجیٹل پاکستان پروجیکٹ اس ملک کو جدید دنیا میں آگے لے جانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ڈیجیٹل پاکستان کے تحت حکومت نہ صرف شہریوں کے لئے روزگار کے بہت سارے نئے مواقع فراہم کرے گی بلکہ اس سے ملکی سطح پر کرپشن کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم اس ڈیجیٹائزیشن کے عمل کے نتیجے میں انسانی حقوق کے مزید چیلنجز ابھریں گے۔ پاکستان میں شہریوں کی پرائیویسی کو یقینی بنانے سے متعلق تاحال کوئی جامع قانون موجود نہیں۔ ایسی صورت میں ڈیجیٹائزیشن کی طرف بڑھنا شہریوں کی پرائیویسی کے لئے مزید خطرات لا سکتا ہے اور اگر حکومت اس کی پیش بندی نہیں کرتی تو ملک میں انسانی حقوق کی صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔

پاکستان میں ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون کا مسودہ 2005 میں تیار کیا گیا مگر تا حال اس قانون کو عملی شکل نہ دی جا سکی اور نہ ہی اسے پارلیمان میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا۔ اس کے بر عکس شہریوں پر نظر رکھنے کی غرض سے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے ایکٹ کا اطلاق 1916 میں کیا گیا اس ایکٹ کے تحت فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے ) کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ڈیجیٹل سپیس میں ہونے والے جرائم بالعموم ریاست کے خلاف ہونے والی سازشوں پر نظر رکھ سکیں۔

اس اختیار کا کئی جگہ بے جا استعمال نظر آتا ہے اور کہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایف آئی اے کا ادارہ بالکل کہیں موجود ہی نہیں۔ الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی اے ہر چھ ماہ بعد اس قانون سے متعلق اپنی کارکردگی کی رپورٹ سینٹ میں پیش کرنے کا پابند ہے مگر اس پر باقاعدگی سے عمل نہیں ہو رہا۔

موجودہ دور میں سوشل میڈیا پر ریاستی حفاظت کے پیش نظر نگرانی کرنا حکومتی اداروں کی ضرورت ہے۔ مگر اس عمل میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔ ڈیٹا پرائیویسی کسی بھی شہری کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی حق ہے۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس پر حکومتی سطح پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران کئی ایسے واقعات ہوئے جہاں شہریوں کی پرائیویسی کا خیال نہیں رکھا گیا۔ مثال کے طور پر بلوچستان یونیورسٹی میں نگرانی کے لئے لگائے گئے کیمروں کی فوٹیج کا نا جائز استعمال اور لاہور میں سینما گھروں میں لگائے گئے کیمروں کی ریکارڈنگ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا۔ علاوہ ازیں انتظامی امور کے لئے اکٹھا کیا گیا ڈیٹا بھی چوری کر کے بیجا جانے کے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں۔

ایسی صورت حال جہاں شہریوں کی پرائیویسی کو یقینی نہیں بنایا جا رہا وہاں ڈیجیٹل پاکستان جیسے اچھے اقدامات الٹا شہریوں کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ڈیٹا پرائیویسی کے لئے فی الفور موثر اقدامات کرے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 16 A کے تحت یہ شہریوں کا بنیادی حق ہے اور انٹرنیشنل کووننٹ آف سول اینڈ پولیٹکل رائٹس کے تحت حکومت پاکستان کی ذمہ داری بھی۔

حکومت کو چاہیے کہ ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق عوامی سطح پر شعور اجاگر کرے اور اس کے لئے بڑے لیول پر آگاہی مہم چلائی جائے۔ قانون کا جو مسودہ 2005 میں بنایا گیا تھا اسے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر کیا جائے اور اسے عوامی سطح پر مشتہر کیا جائے۔ اس مسودے پر عوامی رائے لینے کے بعد اسے حتمی قانونی شکل دی جائے تاکہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ ابھی تک ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق ہونے والی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لئے ایک آزادانہ کمیشن قائم کیا جائے جو ایسے واقعات کی چھان بین کرے اور متاثرہ افراد کی داد رسی کر سکے۔

Reprence : ڈیجیٹل پاکستان اور ڈیٹا پروٹیکشن